پاکستانی و چینی حکام سے بات چیت کیلئے طالبان وفد پاکستان پہنچ گیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کا ایک وفد پیر کو اسلام آباد پہنچا جہاں پاکستانی حکام سے ان کی بین الافغان مذاکرات پر بات چیت ہوگی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں درپیش پیچیدگیاں کم ہوں اور یہ مذاکرات جلد ہی شروع ہو۔

‘کوشش تو یہی ہے، نیت بھی یہی ہے، خواہش بھی یہی ہے کہ پیچیدگیاں کم ہوں اور بین الافغان مذاکرات کو جلد از جلد شروع ہونا چائیے۔’

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دورہ چین میں بھی انہوں نے چینی حکام کے ساتھ افغان امن عمل پر بات چیت کی اور اسی سلسلے میں افغانستان کے لئے چین کا نمائندہ خصوصی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

طالب ترجمان سہیل شاہین نے ان کے وفد کا دورہ پاکستان پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وبا کے بعد انہوں نے غیرملکی ممالک کے دوروں کا آغاز پاکستان سے کیا اور جلد ہی ا±ن کے ساتھی دوسرے ممالک کا سفر بھی کریں گے۔

پاکستان پر پہلے دن سے طالبان کی حمایت کا الزام لگتا رہا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان نے کورونا وبا کے بعد اپنے دوروں کا آغاز آخر پاکستان سے ہی کیوں کیا؟

افغان امور کے ماہر اور صحافی سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان کا طالبان پر دبائو تھا کہ وہ دورہ پاکستان کریں تاکہ بین الافغان مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہو۔

‘پاکستان یہ چاہتا ہے کہ وہ امریکہ اور طالبان امن معاہدے کی طرح بین الافغان مذاکرات منعقد کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں اور اسی لیے وہ بار بار قطر میں موجود طالبان کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے رہے۔’

سمیع یوسفزئی کے مطابق طالبان وفد دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے ساتھ طالبان رہنماو¿ں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور ان چھ طالبان قیدیوں کی رہائی (جن کی رہائی پر فرانس نے تشویش کا اظہار کیا ہے) اور بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں صلاح مشورے کریں گے۔

طالبان ذرائع اور افغان میڈیا کے مطابق ان قیدیوں میں حکمت اللہ، سید رسول، گل علی، محمد داود، اللہ محمد اور نقیب اللہ شامل ہیں جن پر فرانسیسی اور آسٹریلین شہریوں کی ہلاکت کا الزام ہیں۔

جبکہ صحافی اور افغان امور کے دوسرے ماہر طاہر خان کہتے ہیں کہ پاکستان نے حال ہی میں کئی مرتبہ طالبان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، لیکن طالبان نہیں آنا چاہتے تھے۔

‘ملا برادر اور کئی طالبان رہنما یہ سمجھتے تھے کہ بین الافغان مذاکرات شروع ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے وہ نہیں چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔’

لیکن ان کے مطابق جب گزشتہ ہفتے پاکستانی وزارت خارجہ نے طالبان رہنماوں پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی طالبان نے دورے کا آغاز کیا۔

دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ امن نے طالبان کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں امید ہیں کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر ورسوخ کا صحیح طور پر استعمال کر کے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے لیے راہ ہموار کرسکتا ہے۔

وزارتِ امن کی ترجمان ناجیہ انوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہمسایہ ملک اور وہاں طالبان رہنماو¿ں کی موجودگی کی وجہ پاکستان کا افغان امن عمل پر اثر ورسوخ ہے۔

‘پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر افغان حکام کی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا افغان امن عمل میں اثرورسوخ ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ اس اثر ورسوخ کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔’

Share This Article
Leave a Comment