پاکستان نے بحرہ بلوچ روٹ سے ایران کو کنٹینرز بھیجنے کی منظوری دے دی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

حکومتِ پاکستان نے ایران کے لیے تجارتی سامان کی ترسیل کے سلسلے میں بحرہ بلوچ کی پسنی، گوادر اور گبد سمیت چھ زمینی و ساحلی روٹس کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے، جس کے بعد کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے متعدد کنٹینرز کو ایران روانہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں میں درپیش رکاوٹوں کے باعث کیا گیا۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ایران جانے والے کنٹینرز کو بینک گارنٹی کے تحت مخصوص روٹس سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدام تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل اور پھنسے ہوئے کارگو کی کلیئرنس کے لیے ضروری تھا۔

تاہم اس فیصلے کے بعد بعض غیر سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی پورٹ سے روانہ کیے جانے والے چند کنٹینرز میں مبینہ طور پر اسلحہ موجود ہے۔ ان دعوؤں کی نہ تو حکومتی سطح پر کوئی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ان کنٹینرز میں دراصل کیا سامان موجود ہے۔ حکام نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیل جاری نہیں کی۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق، حکومت نے صرف ٹرانزٹ روٹس کی منظوری اور پھنسے ہوئے کنٹینرز کی کلیئرنس کا ذکر کیا ہے، جبکہ کنٹینرز کے مواد کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران پر عائد پابندیوں اور ہرمز کی کشیدگی کے تناظر میں اس فیصلے کے اثرات پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کا جواب حکومتی شفافیت اور تفصیلات کے بغیر ممکن نہیں۔

Share This Article