بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بلوچ طلبہ کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے، جو بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ شعور یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، اور ان نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا دراصل اس قوم کے مستقبل کو لاپتہ کرنے کے مترادف ہے۔ آج ریاست بلوچ قوم کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ شعیب بلوچ، جو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے فارغ التحصیل طالب علم ہیں، انہیں 12 مئی 2025 کو گلشنِ اقبال کراچی سے ریاستی اداروں کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ شعیب بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد ان کے والد، حاجی دین محمد بنگلزئی، اپنے بیٹے کو ایک بار دیکھنے کی آرزو لیے، اس کی گمشدگی کے تقریباً نو ماہ بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی جماعتوں، بلوچ طلبہ، سماجی کارکنوں اور صحافیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شعیب بلوچ کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی ریاست سے مطالبہ کرتے ہیںکہ شعیب بلوچ کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔