بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے سابق چیئرمین شعیب بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے ۔ اہلخانہ ان کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔
نصیرآباد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے سابق چیئرمین شعیب بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، تاہم اہلخانہ کے مطابق انہیں اب تک ان کی خیریت یا مقام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ شعیب بلوچ کو ۱۲ مئی ۲۰۲۵ کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے مبینہ طور پر حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا تھا۔
ان کے بقول اس واقعے کے بعد سے انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
خاندان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سماجی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ شعیب بلوچ کی بازیابی اور ان کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے آواز اٹھائی جائے۔
اہلخانہ کے مطابق ایک سال گزرنے کے باوجود شعیب بلوچ کی حالت اور مقام سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا سامنا کر رہا ہے۔