متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز کہا کہ اس نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ تیل برآمد کرنے والے ان گروپوں اور ان کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص کر ایک ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی بحران پیدا کر دیا ہے اور عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے، تیل کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع سٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک اور اوپیک پلس کا رکن رہا ہے اور یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے ممالک کا ایک اتحاد ہے، جس میں اوپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس سمیت چند غیر اوپیک ممالک بھی شامل ہیں۔
اس اتحاد کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی پیداوار اور قیمتوں کو متوازن رکھنا ہے۔
المزروعی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک خودمختار اور قومی فیصلہ ہے جو طویل المدتی سٹریٹجک اور معاشی نقطۂ نظر پر مبنی ہے، اور اس سے متحدہ عرب امارات کو اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور گیس کے شعبے میں دنیا کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ لچک کے ساتھ تعاون کا موقع ملے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے شہر جدہ میں جنگی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔