بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد بغیر کسی قانونی جواز کے ہدہ جیل منتقلی کے خلاف بولان میڈیکل کالج (BMC) کے باہر جاری دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے، جبکہ تین دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نام پر انتظامیہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، مظاہرین کی پروفائلنگ کی جارہی ہے اور پولیس اہلکار ان کی تصاویر لے رہے ہیں۔
خدیجہ بلوچ، جن کا پورا نام خدیجہ پیر جان ہے، ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی اور کوئٹہ میں زیرِ تعلیم ہیں۔ انہیں گزشتہ رات تقریباً 1 بجے بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔بعد ازاں انہیں بغیر کسی ایف آئی آر کے ہدہ جیل منتقل کردیا گیا۔
آج خدیجہ بلوچ کے اہلخانہ اور ساتھی طالبات کی جانب سے کوئٹہ میں ایک پرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے خدیجہ کی فوری بازیابی، خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور ریاستی اداروں کی شفافیت کے مطالبات کیے۔
بلوچستان میں خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مختلف تنظیموں کے مطابق یہ رجحان نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سماجی سطح پر خوف اور عدم تحفظ میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
بلوچ وومن فورم (BWF) نے خدیجہ پیر جان کی جبری گمشدگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ کے بارے میں فوری اور واضح معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ فورم نے کہا کہ خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا نہایت خطرناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔
BWF نے بی ایم سی کے باہر جاری طلبہ کے دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پرامن احتجاج کا حصہ بنیں، کیونکہ خاموشی ناانصافی کو مزید تقویت دیتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھرنے کے کسی بھی شریک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست کوئٹہ پولیس پر عائد ہوگی۔
بی وائی سی کے مطابق پولیس نے اپنی بنیادی ذمہ داریاں چھوڑ کر عوام کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے، جو کہ غیرقانونی اور ناقابلِ برداشت رویہ ہے۔