بلوچ وومن فورم نے بلوچستان اور کراچی میں بلوچ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کم از کم چار خواتین کو گھروں اور ہاسٹلز سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں حسینہ بلوچ دختر نوربخش (ضلع آواران)، گل بانک دختر تاج محمد (سنگ آباد، ضلع کیچ)، ثمینہ بلوچ دختر دوست محمد (اورناچ، خضدار) اور نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ شامل ہیں۔
بیان کے مطابق بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کا مرکز رہا ہے، تاہم خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے حالیہ الزامات ایک نہایت تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں، آئینی تحفظات اور قانون کی حکمرانی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بلوچ وومن فورم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ متاثرہ خاندانوں کو مبینہ طور پر خاموش رہنے، معاوضہ قبول کرنے اور بیانات دینے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جو انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے منافی ہے۔
فورم نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں عدم تحفظ اور بے اعتمادی کو فروغ دیتے ہیں، جو طویل المدتی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے، ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو ہر قسم کے دباؤ اور ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
بلوچ وومن فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچ خواتین کے حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔