بلوچستان کے علاقے واشک میں افیون کی بڑھتی کاشت پر مقامی نوجوانوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری بیان میں نوجوان کمیٹی واشک نے ضلع واشک کے علاقے رزک اور ماسہن دپ میں افیون (پوست) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر قانونی کاشتکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
کمیٹی کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔
نوجوان کمیٹی نے کہا کہ علاقے میں افیون کی کاشت روز بروز بڑھ رہی ہے، جس کے باعث معاشرے میں نشے کی لعنت، جرائم اور بے راہ روی کے پھیلنے کا خدشہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔
کمیٹی کے مطابق یہ رجحان پورے ضلع کے سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔
نوجوان کمیٹی نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے کے خلاف پہلے بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تھی اور ڈپٹی کمشنر واشک کو باقاعدہ درخواست بھی دی تھی، تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جو کہ ان کے مطابق انتہائی تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
کمیٹی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے رزک اور ماسہن دپ میں جاری اس غیر قانونی کاشتکاری کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
نوجوان کمیٹی نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والی نسلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ خدارا ہمارے علاقے رزک پر رحم کیا جائے، اس سے پہلے کہ نوجوان نسل مکمل طور پر اس لعنت کی نذر ہو جائے۔