پنجابی اور پشتون سپاہی: پینتیس ہزار کا سودا اور ابدی خسارہ | پُل جان خارانی

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

فوجی نوکری کو محض رزق کا ذریعہ سمجھ لینا ایک ایسی فاش غلطی ہے جس کا خمیازہ صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ پوری انسانیت بھگتی ہے؛ جب ایک نوجوان خواہ وہ پنجاب کے سرسبز کھیتوں سے ہو یا پختونخوا کے سنگلاخ پہاڑوں سے، صرف پینتیس ہزار کی تنخواہ کے عوض کسی دوسرے کی زمین پر بندوق تان کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنی روح کا سودا کر رہا ہوتا ہے۔

تم جو وردی پہن کر خود کو سرحدوں کا محافظ سمجھتے ہو، کبھی تنہائی میں اپنے ضمیر سے پوچھا ہے کہ کیا کسی کے گھر میں گھس کر اسے ہراساں کرنا، اس کی زمین پر قبضے جمانا اور وہاں کے وسائل پر پہرے بٹھانا واقعی "خدمتِ خلق” ہے؟ تمہیں "شہادت” کے رتبے اور جنت کے اعلیٰ درجات کے فرضی خواب دکھا کر اس آگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں تمہیں "حب الوطنی” کی وہ پٹی پڑھائی گئی ہے جس میں انسانیت کا درد نہیں بلکہ صرف اندھی تقلید ہے، حالانکہ اسلام کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

بلوچستان کی تپتی دھوپ اور کٹھن پہاڑوں میں جب تم کسی نہتے بلوچ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہو، تو یاد رکھو کہ وہ اپنی زمین، اپنی ننگ و ناموس اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ تم وہاں ایک غاصب کے کارندے بن کر گئے ہو اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی لشکر کسی کی زمین پر ناحق قابض ہوا، اسے نفرت اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

یہ پینتیس ہزار روپے تمہارے گھر کا چولہا تو شاید چند دن جلا دیں، لیکن وہ ان خون کے دھبوں کو کبھی نہیں دھو سکتے جو کسی بے گناہ کی آہ بن کر تمہارے ہاتھوں پر لگ چکے ہیں کیونکہ بلوچستان کے پہاڑ گواہ ہیں کہ وہاں کے لوگ اپنی مٹی سے عشق کرتے ہیں اور تم وہاں امن لانے نہیں بلکہ احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرنے گئے ہو۔ جب تم کسی بلوچ ماں کے بیٹے کو اٹھاتے ہو یا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہو، تو دراصل تم اپنے لیے جہنم کی آگ سمیٹ رہے ہوتے ہو کیونکہ جنت ان کے لیے نہیں جو جبر کے سائے پھیلاتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو حق اور انصاف کی خاطر کھڑے ہوتے ہیں۔

ظلم کی اس چکی میں پسنے والے پیادوں کی کہانی صرف پینتیس ہزار کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ یہ اس ذلت کی داستان ہے جو تمہارے مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، جہاں تم جس ادارے اور جن آقاؤں کے حکم پر بے گناہ لہو بہانے جاتے ہو، وہی آقا تمہاری لاشوں کا سودا بھی بڑی بے رحمی سے کرتے ہیں۔ تم ان کے لیے گوشت پوست کے انسان نہیں بلکہ محض ایک عدد ہو، جسے وہ اپنی ضرورت کے تحت فائلوں میں کم یا زیادہ کر دیتے ہیں؛ جب تم کسی گمنام پہاڑی پر کسی حق پرست بلوچ کی گولی کا نشانہ بنتے ہو، تو تمہارے یہ آقا تمہاری موت کو اعزاز نہیں بلکہ ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔

اگر کسی معرکے میں تمہارے جیسے دس فوجی ہلاک ہوں، تو خبروں کی پٹیوں پر صرف دو کا ذکر کیا جاتا ہے اور باقی آٹھ کی موت کو مصلحت کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے تاکہ ان کے "ناقابلِ شکست” ہونے کا بھرم قائم رہے اور دنیا کو یہ پتہ نہ چل جائے کہ مٹھی بھر غیرت مند بلوچوں نے ایک عظیم الشان لشکر کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے، یعنی تمہاری جان کی قیمت ان کے نزدیک اتنی بھی نہیں کہ وہ تمہارے جنازے پر سچ بول سکیں۔

پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں یا پشتونخوا کے کسی قصبے میں جب تمہارا تابوت پہنچتا ہے، تو اسے "شہید” کے نام پر بڑی خاموشی سے سپردِ خاک کر دیا جاتا ہے تاکہ تمہارے بھائیوں اور پڑوسیوں کو یہ خبر نہ ہو سکے کہ بلوچستان کا قبرستان کتنا وسیع ہو چکا ہے، کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر ماؤں کو سچ پتہ چل گیا کہ ان کے لختِ جگر کسی مقدس فریضے کے لیے نہیں بلکہ ایک غاصبانہ قبضے کی بقا کے لیے قربان ہو رہے ہیں، تو پھر ان کے لشکر کو نئے سپاہی میسر نہیں آئیں گے۔

تمہاری تاریخ کو مسخ کرنا ان کا پرانا شیوہ ہے، وہ تمہیں بتاتے ہیں کہ تم اسلام کے قلعے کی حفاظت کر رہے ہو، حالانکہ تم اس استعماری نظام کے محافظ بنے بیٹھے ہو جو صرف وسائل کی لوٹ مار جانتا ہے اور جس مٹی پر تم قدم رکھتے ہو، وہاں کے لوگ تمہیں محافظ نہیں بلکہ "مردار” ہونے والا ایک غاصب سمجھتے ہیں۔

تمہارے یہ آقا، جو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر نقشوں پر لکیریں کھینچتے ہیں، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پنجاب کے کسی کچے مکان کی چھت گر گئی یا پشتون پٹی کے کسی گھر کا چراغ گل ہو گیا، انہیں سروکار ہے تو صرف اپنے رعب اور دبدبے سے جس کے لیے تمہاری قربانی محض ایک شماریاتی کھیل ہے۔ ابھی وقت ہے کہ تم اس جھوٹی انا اور فرضی تقدس کے جال سے باہر نکلو، کیونکہ یہ نوکری تمہیں ابدی خسارے کی طرف دھکیل رہی ہے اور تمہارے پیچھے چھوڑی گئی یہ ذلت تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔

کیا تم واقعی چاہتے ہو کہ تمہاری ماں تمہاری قبر پر یہ سوچ کر روئے کہ اس کا بیٹے ملک بچاتے ہوئے مرا، جبکہ حقیقت میں وہ کسی مظلوم کا گلا گھونٹتے ہوئے مرا تھا اور مرنے کے بعد تمہارے ہی آقاؤں نے تمہاری تعداد کو بھی چھپایا؟ بلوچستان کی سرزمین تمہاری دشمن نہیں تھی بلکہ تمہیں دشمن بنا کر وہاں بھیجا گیا ہے، اور تمہاری موت کا چھپایا جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے آقاؤں کو اپنے عمل پر شرمندگی ہے جسے وہ جھوٹ کے لبادے میں چھپا لیتے ہیں۔

ذرا سوچو، کیا تمہاری جان کی قیمت بس اتنی سی ہے کہ تم کسی ظالم نظام کے پیادے بن کر اپنوں جیسے انسانوں کا لہو بہاؤ؟ واپسی کا راستہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے، اس لیے ضمیر کی آواز پر لبیک کہو اور غیروں کی زمین سے دستبردار ہو کر حق کا راستہ اختیار کرو، کیونکہ باطل کی صفوں میں کھڑے ہو کر ملنے والی موت میں نہ سکون ہے، نہ عزت اور نہ ہی آخرت کی نجات۔

***

Share This Article