بلوچستان میں معدنیات تلاش کرنے والی کمپنیوں پر حملوں کا سلسلہ دو روز کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد نے تیل و گیس کی تلاش میں مصروف ایک کمپنی کے سائٹ پر حملہ کیا اور بھاری مشینری اور گاڑیوں کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ اس واقعے کے 24 گھنٹے بعد پیش آیا جس میں ضلع چاغی کے علاقے داریگون میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (NRL) کے کان کنی سائٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس حملے میں ایک غیر ملکی سمیت کم از کم10 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 3سیکیورٹی گارڈز بھی شامل تھے۔
ہلاک شدگان کی لاشیں پہلے سول ہسپتال کوئٹہ اور بعدازاں سی ایم ایچ منتقل کی گئیں، تاہم صحافیوں کو ہسپتال میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی صحافیوں کے مطابق دونوں حملوں میں بھاری مشینری کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ کسی تنظیم نے تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دریگون، دالبندین سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں مختلف معدنیاتی منصوبے جاری ہیں۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں یہ واضح کر چکی ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل بلوچ قوم کی امانت ہیں، اور ان وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث عناصر کو متعدد بار تنبیہ بھی کی جا چکی ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل کی غیرمنصفانہ دوہری پالیسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
بلوچ قوم پرست اور آزادی پسند حلقے ماضی میں متعدد بار یہ بھی مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر کام کرنے والی کمپنیاں مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر سرگرم ہیں، اور بعض تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ منصوبے "ریاستی اداروں اور فوجی قیادت کی سرپرستی میں چلائے جاتے ہیں”۔ تاہم حکومتی سطح پر اس مؤقف کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دونوں حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔