بلوچستان سے ایک اور بلوچ خاتون بھائی سمیت پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان سے پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون کو بھائی سمیت جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

واقعہ گذشتہ روزدالبندین میں ظہور کالونی میں پیش آیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق فوج نے چھاپے کے دوران بہن اور بھائی کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔جن کے حوالے سے اب کوئی خبر نہیں ہے ۔

جبری لاپتہ کئے گئے بہن بھائیوں کی شناخت رحیمہ بنت محمد رحیم اور زبیر ولد محمد رحیم کے ناموں سے ہوئی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی، جبکہ اہلکاروں کی جانب سے لوگوں کو تشدد اور ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل ماجبین بلوچ اور ان کے بھائی یونس کو بھی پاکستانی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد جبری لاپتہ کردیا تھا۔ بعد ازاں یونس کو رہا کر دیا گیا تھا، تاہم ماجبین بلوچ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ ہیں۔

اسی طرح نسرینہ بلوچ بھی حب چوکی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد تاحال لاپتہ ہیں، جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ماضی میں بھی متعدد بلوچ خاتون جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے اور بعدازاں انہیں جھوٹے مقدمات میں عدالتوں میں پیش کیا گیا جو ناکافی ثبوت کے باعث رہا کردیئے گئے۔

Share This Article