بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سندھ کے علاقے کشمور میں بلوچ کلچر ڈے منانے پر مولوی کی جانب سے مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ممبران اور ان کے خاندانوں کو غیر منطقی جواز کی بنیاد پر ہراساں کرنا اور ان کے خلاف فتوے جاری کرنا ایک ناقابلِ برداشت اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ طلبہ کی جانب سے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر ثقافتی اور روایتی تقریب کا انعقاد ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم ہے۔ اپنی زبان، شناخت اور ثقافت کو زندہ رکھنا ہر باشعور قوم کا حق ہے، اور سندھ میں صدیوں سے آباد بلوچوں کو بھی اپنی ثقافت منانے کا پورا اختیار حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ثقافتی دن منانا کسی بھی طرح مذہب یا معاشرتی اقدار کے خلاف نہیں، بلکہ یہ سرگرمیاں مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔ ایسے پروگرام نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے اور اپنی شناخت پر فخر کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایک جانب سندھ میں منظم حکمت عملی کے تحت بلوچ شناخت کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب مولوی عبدالعزیز کی طرف سے کلچر ڈے تقریب کو فحاشی قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ بلوچوں کو سماجی بائیکاٹ اور جنازے نہ پڑھانے جیسی سنگین دھمکیاں دینا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے معاشرے میں مزید تضادات جنم لیتے ہیں۔
بیان کے آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے کہا کہ وہ مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ثقافتی پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ کونسل نے حکامِ بالا سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔