بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کی نظراندازی اور سوشل میڈیا کی سرپرستی ناقابل قبول قرار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان ڈیلی نیوز پیپرز ایڈیٹر کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں ہوا جس میں تمام ممبرز پبلی کیشنز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کو درپیش صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور حکومت اور پریس کے تعلقات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت جو ڈیجیٹل پالیسی لا رہی ہے وہ اس کی اپنی پالیسی ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا نہ ہی ان سے تجاویز طلب کی گئیں اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ پرنٹ میڈیا کے بجٹ میں کٹوتی کر کے اس کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کے شعبہ کیلئے مختص کیا جا رہا ہے تویہ انتہائی افسوسناک اور باعث تشویش صورتحال ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اگر حکومت سوشل میڈیا کی سرپرستی کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے مگر پرنٹ میڈیا کی حق تلفی کر کے سوشل میڈیا کی سرپرستی کرنا قابل قبول نہیں ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کیلئے علیحدہ بجٹ مختص کرے کیونکہ پرنٹ میڈیا پہلے سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے اس میں استعمال ہونے والا تمام میٹریل امپورٹڈ ہے جس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں خاص طور پر حالیہ جنگ کی وجہ سے نیوز پرنٹ کا حصول تقریبا”ناممکن ہو گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں پرنٹ میڈیا کے وسائل کم کرنا دراصل ایک قاتلانہ حملہ ہے لہذا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے اپیل ہے کہ وہ اس کا معاملہ کا ذاتی نوٹس لے کر پرنٹ میڈیا کو ختم ہونے سے بچائیں کیونکہ دیگر صوبوں کی حکومتیں پرنٹ میڈیا سے بھرپور تعاون کر رہی ہیں اور وہ کسی بھی منفی اقدام سے گریز کر رہی ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت بلوچستان اپنی مجوزہ یا ممکنہ پالیسی پر نظرثانی کرے پرنٹ میڈیا کو کیٹیگرائز کرے اور جو پڑھے جانے والے اخبارات ہیں ان کو میرٹ پر اشتہارات کا اجرا کرے کونسل یہ واضع کرتی ہے کہ اکثر رکن مطبوعات ڈیجیٹل ہو چکی ہیں ان کے ویب سائٹس اور ای پیپرز موجود ہیں جبکہ یہ بات ثابت ہے کہ پرنٹ میڈیا کی خبریں مستند اور درست ہوتی ہیں اور بلوچستان کے پریس نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اس برعکس سوشل میڈیا افواہ سازی کا مرکز ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ 90سال سے قائم قدیم شعبہ پرنٹ میڈیا کو ختم ہونے سے بچائے ۔

اجلاس کی صدارت انور ساجدی نے کی جبکہ جنگ کے حاجی خلیل الرحمان ، ایکسپریس کے رضا الرحمان ،92نیوز کے خلیل احمد ، بلوچستان نیوز کے انور ناصر ، ہمت کے نادر زمرد ، روزنامہ آزادی کے آصف بلوچ اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔

Share This Article