امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران منگل اور بدھ کی درمیانی رات 3 بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔
اس کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے تصدیق کی کہ صورتحال ’’ایک نہایت حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے‘‘ اور پاکستان کی کوششیں ’’اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں‘‘۔
جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کا مثبت اثر آج سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر ہوا۔ مارکیٹ میں بے تحاشہ تیزی کی وجہ سے کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے اپر سرکٹ کے اصول کے تحت معطل کر دیا گیا ہے۔
جنگ بندی کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جمعے کو اسلام آباد میں دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ نکات اس کے پیش کردہ منصوبے کا حصہ ہیں جن میں خطے کی جنگوں کا خاتمہ، پابندیوں کا اٹھایا جانا، منجمد اثاثوں کی رہائی اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ایران کی کمزور معاشی صورتحال، اندرونی سیاسی دباؤ اور جوہری پروگرام مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کا انحصار آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تیزی براہِ راست امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا نتیجہ ہے۔ خریداری کے شدید دباؤ کے باعث مارکیٹ کو ایک گھنٹے کے لیے اپر سرکٹ کے تحت معطل کرنا پڑا۔