جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے شے حق بلوچ کی ماورائے عدالت قتل کے بعد بی وائی سی نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے کہا کہ میناز بلیدہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ طالب علم شے حق رحیم بخش کو 6 روز کی جبری گمشدگی کے بعد تربت کے علاقے بانک چڑائی، پسنی روڈ پر مردہ حالت میں پھینک دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ شے حق، جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، 31 مارچ 2026 کو شام 4 بجے تربت مین بازار سے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے تھے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک انفرادی قتل نہیں بلکہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے منظم سلسلے کا حصہ ہے۔
تنظیم کے مطابق نوجوانوں، خصوصاً طلبہ کو نشانہ بنانا ایک سنگین انسانی حقوق مسئلہ ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔
بی وائی سی نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ تحقیقات کرائیں اور ذمہ داران کو جوابدہ بنائیں۔
تنظیم نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان خوف، خاموشی اور جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔