بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کردگاپ آپریشن میں کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر تنظیم کی وسیع عسکری ناکہ بندی اور کنٹرول، متعدد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت ، کواڈ کاپٹرز اور ریاستی دفاعی نظام تباہ ومفلوج کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جبکہ ایک سرمچارکی شہادت بھی پیش آئی ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 6 اپریل کی صبح 7 بجے، ایک غیر معمولی اور منظم عسکری حکمت عملی کے تحت مقبوضہ بلوچستان کی اہم ترین شاہراہ، کوئٹہ-تفتان ہائی وے کو چار مختلف تزویراتی مقامات پر بیک وقت گھیرے میں لے کر مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ یہ آپریشن بی ایل ایف کی اس حکمت عملی کی ایک کڑی تھا جس کا مقصد بلوچستان کے شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرکے دشمن کی نقل و حرکت کو روکنا اور بلوچستان کے چپے چپے کو اس کیلئے نو گو ایریا بنانا ہے علاوہ ازیں ایسی کاروائیوں کے ذریعے تنظیم دشمن کو یہ باور کرانا بھی چاہتی ہے کہ بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ سرمچاروں کی دسترس سے باہر نہیں۔ آپریشن کی کامیابی کے لیے سرمچاروں کو چار الگ الگ خصوصی دستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جنہوں نے اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے عسکری صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں کے پہلے دستے نے کردگاپ میں پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ تھانے میں موجود تمام اہلکاروں کو غیر مسلح کر کے حراست میں لیا گیا، تاہم بی ایل ایف نے اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور تحریک کے اعلیٰ مقاصد کے پیشِ نظر، تمام اہلکاروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا۔ اس دستے نے کردگاپ کراس پر مضبوط ناکہ بندی قائم کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں کے دوسرے دستے نے کلی شاہنواز کے مقام پر شاہراہ کو بلاک کیا، جہاں ان کا سامنا دشمن کے ایک بھاری قافلے سے ہوا جو 15 سے زائد بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ دشمن نے پیش قدمی کے لیے اندھا دھند مارٹر باری کی لیکن سرمچاروں نے مضبوط پوزیشنوں سے قافلے پر شدید جوابی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کا پورا قافلہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا اور بزدلانہ طور پر دور سے گولہ باری کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔
تنظیم کے مطابق سرمچاروں کے تیسرے اور چوتھے دستے نے کوئٹہ کی حدود میں واقع پنجپائی کے دو حساس مقامات پر گھات لگائی۔ ان دستوں نے کوئٹہ کی طرف سے آنے والی کسی بھی ممکنہ فوجی کمک کو روکنے کے لیے ایک ناقابلِ عبور دفاعی حصار قائم کر دیا، جس نے کئی گھنٹوں تک دشمن کی زمینی کمک کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دورانِ ناکہ بندی، کردگاپ کے مقام پر سادہ وردی میں ملبوس پاکستانی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز اور فوجی اہلکاروں نے تین سول گاڑیوں میں سوار ہو کر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، جنہیں سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔ ایک گاڑی مکمل طور پر حملے کی زد میں آئی، جس میں سوار 5 اہلکار، ایس ایس جی کمانڈو بنیامین، نائیک فرزند علی، سپاہی بابر علی اور سپاہی ابو بکر موقع پر ہلاک جبکہ گاڑی مکمل ناکارہ ہو گئی۔ دیگر دو گاڑیاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔
ترجمان نے کہا کہ صبح 10 بجے کے قریب، نوشکی کی سمت سے آنے والے 20 سے زائد گاڑیوں کے ایک اور فوجی قافلے نے کردگاپ کراس پر سرمچاروں کا گھیرا توڑنے کی کوشش کی، جہاں شدید جھڑپ کا آغاز ہوا۔ سرمچاروں نے راکٹ لانچرز، گرنیڈ لانچرز اور خودکار ہتھیاروں سے دشمن کی تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کر دیں، جس میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ جن میں سے ایک کی شناخت محمد مزمل کے نام سے ہوئی ہے۔ دشمن کا قافلہ خوف اور بوکھلاہٹ میں اپنے زخمیوں اور لاشوں کو جائے حملہ پر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اس دوران فضا میں ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور کواڈ کاپٹرز کی پروازیں جاری رہیں، لیکن سرمچاروں کی شدید مزاحمت کے باعث دشمن فوج پسپا ہو گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے فضا میں موجود دشمن کے تین کواڈ کاپٹرز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ سرمچاروں نے اپنی تزویراتی حکمت عملی کے تحت دوپہر کو شاہراہ سے ناکہ بندی ختم کر دی، تاہم دشمن کے انتظار میں شام تک شاہراہ کے اطراف میں مختلف مقامات پر پوزیشنز سنبھالے رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معرکے کے دوران بی ایل ایف کا ایک نڈر اور باصلاحیت سرمچار، اخلاق احمد مینگل عرف نذیر، سکنہ وڈھ، ضلع خضدار، دشمن سے دو بدو لڑائی میں بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ شہید اخلاق احمد نہ صرف ایک بہترین گوریلا کمانڈر تھے بلکہ ایک حساس دل انقلابی شاعر بھی تھے۔ انہوں نے وڈھ، بولان، مستونگ اور قلات کے کٹھن محاذوں پر تحریک کی آبیاری کی اور قلات کے علاقے مہلبی میں بطور کیمپ کمانڈر خدمات انجام دیں۔ شہادت کے وقت وہ کردگاپ و گرگینہ میں ایک گشتی دستے کی سربراہی کر رہے تھے۔ بی ایل ایف اس عظیم قومی فرزند کی قربانی کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ آپریشن کردگاپ مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کے لیے جاری طویل جنگ میں ہمارے قومی عزم اور استقلال کا مظہر ہے۔ بی ایل ایف نے ہر معرکے میں دشمن پر ثابت کیا ہے کہ تنظیم جب چاہے اور جہاں چاہے، قابض ریاست کی رٹ کو خاک میں ملا کر پورے نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ یہ کارروائیاں تب تک جاری رہے گی جب تک قابض فوج کا آخری سپاہی ہماری سرزمین سے بے دخل نہیں ہو جاتا۔ ہماری جنگ آزاد و خودمختار بلوچستان کی بحالی تک ہر محاذ پر پوری شدت سے جاری رہے گی۔