پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور کراچی سے 3 بلوچ نوجوانوں کوحراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جس کے بعد ان کےحوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ تربت جدگال ڈن (ڈی بلوچ) میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے سیکیورٹی فورسز نے مذکورہ مقام پر ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی سے 25 سالہ نوجوان کو اتار کر حراست میں لیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت سمیر احمد ولد محمد عارف، ساکن اللہ بخت کلاتک کے نام سے ہوئی ہے۔
اسی طرح تربت کے علاقے گوکدان سے 6 اپریل کو ایف سی نے ایک گھر پر چھاپہ مارکر ایک نوجوان کوحراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت الیاس ولد میا داد سکنہ گوکدان کے نام سے ہوگئی ہے ۔
ادھر کراچی کے علاقے فقیر کالونی سے 2 اپریل کو رینجرزنے ایک گھر پر چھاپہ مارکر ایک نوجوان کوحراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا۔
جبری گمشدگی کانشانہ بنائے گئے نوجوان کی شناخت اقبال ولد حید ر سکنہ فقیر کالونی کراچی کے نام سے ہوگئی ہے ۔
تینوں نوجوانوں کی فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی پر اہلخانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرکے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس کی حراست سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں۔