امریکی کانگریس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔
اس سلسلے میں ایرانی نژاد امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے یعنی امپیچمنٹ کے لیے بل پیش کر رہی ہیں۔
اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے یاسمین انصاری نے کہا کہ ’جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، کسی من مانی کرنے والے صدر یا اس کے قریبی حلقے کو نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ پیٹ ہیگستھ کی لاپرواہی سے امریکی فوجی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنا اور بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب، جن میں ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بمباری اور شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے، مواخذے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی ہیں۔‘
ادھر اس خبر کو شائع کرنے والے ادارے ایکسیوس نے پیٹ ہیگستھ کی عوامی مقبولیت میں کمی کی بھی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کہ ’ پیٹ ہیگستھ، ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم ہدف بن کر ابھرے ہیں، خاص طور پر ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹن نوم اور اٹارنی جنرل پام بَنڈی کی برطرفیوں کے بعد۔
سروے ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹ ہیگستھ ٹرمپ کابینہ کے کم مقبول ترین اراکین میں شامل ہیں، جبکہ ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی عوام میں مقبولیت میں مزید دباؤ ڈالا ہے۔