حکومتی مہنگے تیل اقدامات مسترد، چیمبر آف کامرس کا 200 روپے فی لیٹر ایرانی تیل کی فراہمی کا دعوی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں توانائی بچت پالیسیوں اور پیٹرولیم قیمتوں کے حکومتی فیصلوں کے خلاف تاجر برادری اور چیمبر آف کامرس نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ سستا متبادل موجود ہے جسے اختیار نہیں کیا جا رہا۔

بلوچستان حکومت نے توانائی کے تحفظ اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مارکیٹوں، شادی ہالوں اور ریستورانوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہال اور ریستوران رات 10 بجے بند ہوں گے۔ ضلعی انتظامیہ کو سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام اور گراں فروشی کی روک تھام کے لیے ہیلپ لائن 1129 کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے ذریعے شہری زائد وصولی یا بدعنوانی کی شکایات درج کرا سکیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹارگیٹڈ سبسڈی پروگرام کے ذریعے مستحق طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

دوسری جانب تاجر برادری نے حکومتی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبل از وقت مارکیٹ بندش کاروبار کو شدید نقصان پہنچائے گی۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے اعلان کیا کہ مارکیٹیں رات 10 بجے اور شادی ہال 12 بجے تک کھلے رہیں گے، بصورت دیگر صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور غیر ضروری ٹیکسز میں کمی کے بجائے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

چیمبر کے مطابق عالمی مارکیٹ کے حساب سے پیٹرول کی اصل قیمت 220 سے 230 روپے فی لیٹر بنتی ہے، مگر ٹیکسز اور لیوی کے باعث عوام سے 300 روپے کے قریب وصول کیے جا رہے ہیں۔

چیمبر نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت ایران سے تیل درآمد کی اجازت دے تو وہ پورے ملک میں 200 روپے فی لیٹر پیٹرول فراہم کر سکتے ہیں۔

تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت بحال کی جائے، چیک پوسٹوں پر ہراسانی بند ہو، اور بلوچستان کے زمینی حقائق کے مطابق ٹیکسز میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

Share This Article