گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں اورکارگو آپریشنز کا دعویٰ، سیکیورٹی صورتحال بدستور تشویشناک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کا دعویٰ کیا جارہا ہے، جہاں ایک اور کارگو جہاز ایم وی ریوا گلوری 14,629 میٹرک ٹن ٹرانس شپمنٹ کارگو لے کر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق جہاز کے ذریعے مختلف اقسام کا تجارتی سامان اتارا جا رہا ہے اور ان لوڈنگ کا عمل شیڈول کے مطابق جاری ہے۔

چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ کارگو جہازوں کی مسلسل آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر بتدریج علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق جدید سہولیات، بہتر آپریشنز اور لاجسٹک نظام کی وجہ سے بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

دوسری جانب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی عارضی بندش کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گوادر پورٹ جو طویل عرصے سے کم فعال تھااب زیادہ تیزی سے آپریشنل ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران ایران نے پاکستان کو تیل اور دیگر اشیا کی گزرگاہ کے لیے خصوصی ریلیف دیا تھا، جسے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی و تجارتی سہولت قرار دیا گیا۔تاہم گوادر پورٹ کی بڑھتی سرگرمیوں کے باوجود سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

بلوچ آزادی پسند عسکریت پسندوں کے متعدد حملوں کے بعد سرمایہ کاروں کے لیے ماحول غیر یقینی رہا ہے۔ علاقے میں اب بھی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ کے آخری ایام اور رواں ماہ کے آغاز میں بلوچستان بھر میں ہونے والی مربوط کارروائیوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف خطے کی جغرافیائی صورتحال گوادر کو نئی اہمیت دے رہی ہے، تو دوسری جانب سیکیورٹی چیلنجز اس ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ گوادر پورٹ کو مکمل طور پر فعال اور محفوظ تجارتی مرکز بنایا جا سکے۔

Share This Article