ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے پیر کے روز یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو ایک امن تجاویز پیش کی ہیں۔
ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
6 اپریل کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی تھی کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم انھوں نے کہا تھا کہ تہران نے امریکی ’15 نکاتی منصوبہ‘ مسترد کر دیا ہے۔
ارنا کے مطابق ایران کے دس نکاتی جواب میں جنگ بندی کے خیال کو ’ماضی کے تجربات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مسترد کیا گیا اور اس کے بجائے ایران نے اپنی شرائط پر ایک پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کی جانب سے سامنے آنے والے مسودے میں میں کئی مطالبات شامل ہیں، جن میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ پر معاہدہ، تعمیرِ نو اور پابندیوں کا خاتمے جیسی دیگر کئی باتیں شامل ہیں۔