بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیر کے روز مسلح افراد کی جانب سے مختلف مقامات پر مربوط اور بڑے پیمانے کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی، پولیس تھانے پر حملہ، فورسز کے ساتھ جھڑپیں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کی، گاڑیوں کی تلاشی لی اور بعض اطلاعات کے مطابق چند افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اسی دوران ایک مقامی پولیس تھانے پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کی مزاحمت اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی بروقت آمد کے بعد فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔
سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں جھڑپوں کے دوران 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نائیک فرزند علی، سپاہی بابر علی، سپاہی بنیامین اور سپاہی ابو بکر شامل ہیں، جو 40 ایف ایف سے وابستہ تھے۔
مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق مسلح گروہوں نے صبح کے وقت مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کیں، جبکہ پاکستانی فورسز پر مربوط حملے کیے گئے جن میں متعدد گاڑیاں نشانہ بنیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 35 گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلہ بھی حملے کی زد میں آیا، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں، جبکہ فورسز کی پیش قدمی کے دوران مزید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعض مقامات پر پولیس تھانوں پر قبضے اور انہیں نذرِ آتش کیے جانے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے قریب سے ایک بم بھی برآمد ہوا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ مہینوں کے دوران اس نوعیت کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں بلوچ مسلح تنظیمیں اکثر سیکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔