اقوام متحدہ میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا خطاب، بلوچستان میں ریاستی جبر پر عالمی توجہ کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 61ویں اجلاس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور متعدد غیر ملکی منصوبوں کا مرکز ہے، بدترین ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ “ایک بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی بلوچ فرد لاپتہ نہ کیا جائے۔”

انہوں نے کہا کہ بلوچ افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔

ان کے مطابق صحافی، طلبہ، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن محض آواز اٹھانے پر ہراسانی، گرفتاریوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے خاص طور پر BYC کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت کئی کارکنوں کی طویل حراست کا ذکر کیا، جنہیں تقریباً ایک سال سے قید رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام افراد صرف انصاف اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور زمینی حقائق کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے۔

Share This Article