بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز اتوار 6125ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو اذیت، بے یقینی اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لائیں یا اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، اور ہم اپنے پیاروں کی بازیابی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
وی بی ایم پی نے حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے ان کے خاندانوں کی اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔