بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے مزید ایک نعش برآمد ہوگئی ہے ۔اسی طرح پنجگور سے بھی ایک نعش برآمد ہوئی ہے اور ایک شخص کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
تربت شہر کے علاقے آپسر سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جو ایک ہی دن میں دوسری لاش ملنے کا واقعہ ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت اللہ بخش ولد سوگات، سکنہ جوسک کے نام سے ہوئی ہے، جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
لاش کو تحویل میں لے کر ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی کے بعد میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اسی روز پسنی روڈ کے مقام سے بھی ایک لاش برآمد ہوئی تھی، جس کی شناخت شے حق ولد رحیم بخش سکنہ میناز بلیدہ کے نام سے ہوگئی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
دو سری جانب پنجگور میں سی پیک روڈ پر امارت ہوٹل کے قریب پولیس کو ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد شناخت کے لیے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے اور شناخت کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
جبکہ ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان سے عبداللہ عادل دشتی نامی نوجوان لاپتہ ہوگیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق انہیں پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عبداللہ عادل دشتی ایک سماجی شخصیت اور دکاندار ہیں اور انہوں نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔