بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غلام قادر ولد مراد بخش جو گوادر کا رہائشی 18 سالہ طالب علم تھا جس کی زندگی خوابوں سے بھری ہوئی تھی کو 24 نومبر 2025 کو گوادر کے دی کوسٹ اسپتال سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 4 ماہ اور 7 دن کے بعد یکم اپریل 2026 کو گوادر کے علاقے پلیری سے ان کی لاش ملی جو عزت کے ساتھ واپس نہیں آئی بلکہ خاموشی سے پھینک دی گئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس واقعے کو بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ روزانہ بلوچ افراد کی لاشیں مل رہی ہیں، جو خوف کی فضا کو جنم دیتی ہیں لیکن عوامی مزاحمت بھی بڑھا رہی ہیں۔
بیان میں عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔
کمیٹی نے کہا: "ہم نہ بھولیں گے، نہ خاموش رہیں گے۔ یہ مزاحمت ہے۔