بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید3اموات رپورٹ ہوئیں اور ہلاکتوں کی تعداد 9ہوگئی ۔
محکمہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ژوب، دکی اور لورالائی میں تین بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں ژوب اور دکی میں چھت گرنے جبکہ لورالائی میں ایک،ایک بچہ پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا۔
اسی دوران لورالائی اور ژوب میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جہاں دیوار اور چھت گرنے کے واقعات پیش آئے۔
رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے، ژوب اور دکی میں مکانات کو جزوی و مکمل نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی مجموعی رپورٹ کے مطابق 20 مارچ سے اب تک جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک افراد میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں کی وجوہات میں سیلابی پانی میں ڈوبنا، چھتیں اور دیواریں گرنا اور آسمانی بجلی گرنا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کچھی، ژوب، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور دیگر اضلاع میں مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جہاں مجموعی طور پر 150 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 28 مکمل جبکہ 122 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان ضلع کچھی میں رپورٹ ہوا جہاں 100 مکانات متاثر ہوئے۔
سڑکوں اور رابطہ نظام کے حوالے سے بھی صورتحال متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر ہرنائی، کوہلو اور دیگر اضلاع میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث کئی شاہراہیں اور لنک روڈز بند ہیں جس سے زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ نقصانات کے حتمی تخمینے کے لیے سروے کا عمل تاحال جاری ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارشوں کے پیش نظر عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔