بلوچستان کے علاقے تربت، کراچی اور پسنی سے پاکستانی فورسز اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ہاتھوں 4 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے چاروں واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فہاد ولد اختر کو 9 مارچ کو تربت کے علاقے ڈنک سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب شہروز ولد قیوم کو 29 مارچ کو کراچی کے علاقے ملیر سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی مقدمے یا الزام سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
شہیک بلوچ ولد رحیم بخش، عمر 17 سال، جو ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ مہناز کا رہائشی اور ایک طالب علم ہے، کو 31 مارچ کو تربت شہر سے ریاستی حمایت یافتہ مقامی ملیشیا—جسے عام طور پر "ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے—کے افراد نے حراست میں لیا۔ اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
نور خان ولد نذر محمد، عمر 21 سال، جو سردشت کلانچ تحصیل پسنی کا رہائشی اور ایک طالب علم ہے، کو 28 مارچ کو ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے پسنی شہر کے وین اسٹاپ سے دن دہاڑے حراست میں لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے چاروں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ
"بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور عالمی اداروں کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔”