بلوچستان میں جاری بارشوں سے 100 سے زائد مکانات تباہ، تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہوگئے ۔جبکہ ڈھاڈر اور ژوب میں آسمانی بجلی اور بارشوں سے کمرے کی چھت گرنے کے دو مختلف واقعات میں 2 بچے ہلاک اور 5 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (PEOC) کی رپورٹ کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچے کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
تحصیل بالا ناری میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جہاں 100 سے زائد مکانات تباہ، تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہو گئے۔
ہرنائی میں ایک مکان کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ مسلسل بارشوں کے باعث ہرنائی سے سنجاوی اور ہرنائی سے کوئٹہ جانے والی شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہیں اور متعدد اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی اور چمن میں وقفے وقفے سے ہونے والی درمیانی سے شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ضلع قلعہ عبداللہ میں موسلا دھار بارش کے باعث شدید سیلابی صورتحال دیکھنے میں آئی، خصوصاً قلعہ عبداللہ بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مچکا، آرامبی، باغک اور گلستان کاریز میں اونچے درجے کا سیلاب بہتا رہا۔
قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسر کی نگرانی میں پی ڈی ایم اے کی مشینری کے ذریعے ریسکیو آپریشنز کیے گئے، جہاں گلستان کے قریب سیلابی پانی میں پھنسنے والی خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد پر مشتمل ایک منی کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ مچکا ندی سے مزید دو گاڑیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ہرنائی میں متاثرہ خاندان کو فوری امدادی سامان فراہم کیا گیا، جبکہ کچھی میں دریائے ناری کے پشتے کی مرمت کے لیے بھاری مشینری تعینات کر دی گئی ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
ریلیف کمشنر و ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوری کے مطابق صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور تمام ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے تمام ریسکیو عملے اور ریلیف ٹیموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ اور اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔