بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بلوچستان بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج، یکم اپریل 2026 سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایندھن بچت اقدامات کے باعث اسکولوں کی عارضی بندش ختم کر دی گئی ہے، اور آج سے تمام اسکول معمول کے مطابق کلاسز کا آغاز کر رہے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان بھر کے تعلیمی ادارے اب پانچ روزہ ہفتہ وار شیڈول (پیر تا جمعہ) اپنائیں گے، جبکہ ہفتہ اور اتوار تعطیل ہوں گے۔
مزید کہا گیا ہے کہ تمام امتحانات اور اسیسمنٹ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی لیے جائیں گے اور تعطیلات سے ان کی تاریخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
اسی سلسلے میں حکومت بلوچستان نے 06 اپریل 2026 سے ہائر ایجوکیشن سے منسلک تمام صوبائی تعلیمی ادارے کھولنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔ ایران جنگ کے اثرات اور اندرونِ بلوچستان بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلیمی ادارے بند کیے گئے تھے۔
اتوار کے روز بلوچستان بھر میں مسلح کارروائیوں کی نئی لہر دیکھنے میں آئی، جس کی ذمہ داری آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
تنظیم کے مطابق 30 سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اسکولوں اور کالجز کے اطراف حفاظتی اقدامات مزید سخت کریں۔