بلوچستان بھر میں اتوار کی شب سے شروع ہونے والے مربوط مسلح کارروائیوں اور سیکورٹی فورسزو تنصیبات پر حملے جاری ہیں جس سے شاہراہیں، ریلوے ٹریک اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کی ذمہ داری سرگرم و متحرک بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ "مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف ہمارے مربوط حملوں کا سلسلہ پوری قوت سے جاری ہے۔ اب تک جھل مگسی، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، واشک، دالبندین، خاران، پنجگور اور کیچ سمیت مختلف علاقوں میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپوں، عسکری تنصیبات اور قابض فوج کے ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے ٹھکانوں پر 30 سے زائد حملے کیئے جاچکے ہیں۔”
ترجمان کے مطابق، "ان کارروائیوں میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے قابض فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی کیئے گئے ہیں، جبکہ دشمن کو بھاری جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان تمام حملوں اور دشمن کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جلد میڈیا میں دی جائیں گی۔”
اسی سلسلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل "ہکل” نے جھل مگسی میں پاکستانی فوج پر حملے کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو کا دورانیہ تقریباً 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی تین گاڑیاں نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ حملے کے بعد فوجیوں کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں، جبکہ بلوچ جنگجو پرسکون انداز میں حملے کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق حملے میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور تباہ شدہ گاڑیاں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔
جیئند بلوچ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے خلاف "ہمارے مربوط حملوں کا سلسلہ پوری قوت سے جاری ہے” اور اب تک 30 سے زائد کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔