صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ جنگ کے اخراجات عرب ممالک ادا کریں، وائٹ ہاؤس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے سوال کیا گیا کہ آیا عرب ممالک کو جنگی اخراجات ادا کرنے چاہئیں، جیسا کہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران اتحادی ممالک نے امریکہ کی مالی معاونت کی تھی۔

اس پر لیویٹ نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔
” انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صدر ٹرمپ کے ذہن میں موجود ہے اور اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔

پریس سیکریٹری کے مطابق، اگرچہ ایرانی حکام مذاکرات سے انکار کرتے ہیں، لیکن امریکہ کا مؤقف ہے کہ امن بات چیت جاری ہے۔

بریفنگ میں لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11,000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی کارروائیوں سے ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتیں کمزور ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے "تقریباً 90 فیصد کم ہو گئے ہیں” جبکہ امریکی کارروائی نے ایران کی بحریہ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس میں "150 سے زیادہ جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ان کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد شامل ہے۔”

کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کے لیے موقع ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ کرے، اور اگر ایران نے اس موقع کو رد کیا تو امریکی فوج "تیار ہے”۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ "ہر ممکنہ آپشن” اختیار کرے گا اور ایرانی حکومت کو "سنگین قیمت ادا کرنی پڑے گی”۔

لیویٹ نے ان رپورٹس پر بھی بات کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایرانی حکومت کی "عوامی دکھاوا” کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور "نجی سطح پر ہونے والی بات چیت عوامی سطح پر دکھائی جانے والی صورتحال سے مختلف ہوتی ہے۔”

Share This Article