کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے،ایران

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’ان اکتیس دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’امریکہ کی طرف سے تجاویز کے کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، جو پاکستان سمیت کچھ ثالثوں کے ذریعے ہمیں پہنچائی گئی ہیں۔‘

یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ان سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بات کے بعد جاری کیا گیا۔

بقائی نے لکھا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اب ایسی صورت حال میں جب امریکی فوجی جارحیت اور جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے، ہم ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور توانائیاں وقف کر رہے ہیں۔۔۔ ہم نے سابقہ ​​تجربات کو اپنے گوشت اور خون کے ساتھ محسوس کیا ہے، اور ہم سفارت کاری کی دھوکہ دہی کو نہیں بھولیں گے جو دو سال سے بھی کم عرصے میں کی گئی۔‘

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے آج کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور جاری ہیں۔

لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حکام جن کے ساتھ امریکہ بات کر رہا ہے وہ پچھلے لیڈروں کے مقابلے میں ’پردے کے پیچھے زیادہ معقول‘ لگتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے۔‘

ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کا ’احترام‘ کرتا ہے اور اسے ایک ’برادر ملک‘ سمجھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں ’دشمن کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں اور نہ ایرانیوں کا۔‘

عراقچی نے اپنے اس بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی جو بظاہر ایک تباہ شدہ طیارے کی ہے جس پر امریکی فضائیہ کے نشانات موجود ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’بس دیکھو ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابھی تک اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Share This Article