یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ: حوثیوں کی جنگ میں شامل ہونے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے تصدیق کی ہے کہ یمن کی جانب سے اسرائیلی حدود کی طرف داغے گئے ایک میزائل کو نشانہ بنتے ہوئے روکا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے اسرائیل پر داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔

آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے یمن سے آنے والے میزائل کو ٹریک کیا اور خطرے کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا۔ چند منٹ بعد فوج نے اعلان کیا کہ شہری محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ ان کی فورسز ’’براہِ راست فوجی مداخلت‘‘ کے لیے تیار ہیں اور ان کے اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے:

  • اگر کوئی ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوتا ہے
  • اگر بحیرۂ احمر کو ایران یا کسی مسلم ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
  • اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے

ترجمان کے مطابق یہ مؤقف ’’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران، فلسطین، غزہ، عراق اور لبنان کے خلاف جاری جارحیت‘‘ کے ردعمل میں اختیار کیا گیا ہے۔

بعد ازاں یمن میں حوثی گروپ نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ گروپ کے مطابق ان کا ہدف ’’حساس اسرائیلی فوجی مقامات‘‘ تھے اور یہ کارروائی ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

حوثیوں نے اعلان کیا کہ ان کے آپریشنز ’’تمام محاذوں پر جارحیت کے خاتمے‘‘ تک جاری رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ خطے میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کا اشارہ ہے، جو پہلے ہی ایران، لبنان، غزہ اور عراق میں جاری کشیدگی سے متاثر ہے۔ اگر حوثیوں نے باقاعدہ طور پر جنگ میں شمولیت اختیار کی تو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

Share This Article