خلیجی ممالک کے ہوٹلز امریکی فوجی اہلکاروں کو رہائش دینے سے گریز کریں، ایران

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے وزیرِِ خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک میں ہوٹلز کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی اہلکاروں کی میزبانی سے گریز کریں ورنہ ان کے مہمانوں کی جان کو خطرہ ہو گا۔

عباس عراقچی نے جمعرات کو ایکس پر انگریزی زبان میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی ہوٹل فوجی اہلکاروں کو رہائشی خدمات فراہم نہیں کرتے، لہذا خلیجی ممالک کے ہوٹلوں کو بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔

ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوج کے اہلکاروں کو ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔

گذشتہ روز نیویارک ٹائمز اخبار نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ گذشتہ 25 دنوں میں ایرانی حملوں میں متعدد امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان کی افواج اور ملازمین ان اڈوں کے باہر ’دور سے کام کر رہے ہیں۔‘

متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت خلیجی ممالک میں متعدد ٹاورز اور ہوٹلوں کو ایران سے منسوب ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، چند روز قبل، روئٹرز نے بحرینی حکام کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ایک ٹاور کو نقصان ایک پیٹریاٹ میزائل کی باقیات کی وجہ سے ہوا ہے جو ایک پروجیکٹائل کو نشانہ بنانے کے لیے داغا گیا تھا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی رہنماؤں کے قتل کا منصوبہ روکنے کے لیے مداخلت کریں۔

امیر سعید ایراوانی کی جانب سے لکھے گئے خط میں انتونیو گوتریس سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سینئر ایرانی رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے خلاف مؤقف اختیار کریں اور پڑوسی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو دفاع کا جائز حق بھی قرار دیں۔

اس خط میں ایراوانی نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو قتل کرنے کی دھمکی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ خط میں انتونیو گوتریس سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسا طریقہ جاری رہا تو اس کے نتائج ہوں گے۔

ایرانی نمائندے کی طرف سے لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور ان ممالک پر ایران کے میزائل یا ڈرون حملے اس کا ردِعمل ہیں۔

Share This Article