جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی 11ویں بین الاقوامی کانفرنس میں مختلف ممالک سے انسانی حقوق کے ماہرین، محققین اور سماجی کارکن شریک ہو ئے ہیں۔
کانفرنس کا مرکزی مقصد بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر اور بین الاقوامی برادری کی عدم توجہی کی نشاندہی کرناتھا۔
کانفرنس کے مختلف سیشنز میں نمایاں عالمی شخصیات نے خطاب کیا، جن میں مرسے مونجے کانو، ڈاکٹر نسیم بلوچ، آنا لورینا دلگادیو اور گیری کارٹرائٹ شامل ہیں۔
مرسے مونجے کانو نے اپنے خطاب میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی جبر پر مؤثر اقدامات کریں۔
بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
معروف انسانی حقوق کارکن آنا لورینا دلگادیو نے بلوچستان میں جاری بحران کو عالمی انسانی حقوق کے بڑے المیوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ متاثرین کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچانا ناگزیر ہے۔
یورپی تجزیہ کار گیری کارٹرائٹ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہے۔
ان کا خطاب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں سیشن کے موقع پر ہوا، جس نے اس کانفرنس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔
کانفرنس کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی خاموشی ناقابلِ قبول ہے، اور بین الاقوامی اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔