بلوچستان میں شدید بارشیں: ضلع کیچ و گوادر میں نظامِ زندگی متاثر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے مختلف اضلاع، خصوصاً ضلع کیچ اور ضلع گوادر میں حالیہ بارشوں نے نظامِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ مغربی ہواؤں کے طاقتور سلسلے کے داخل ہونے کے بعد مکران بھر میں موسلا دھار بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، سڑکیں متاثر ہوئیں اور متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں بارشوں کے بعد پانی جمع ہونے کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے میونسپل کارپوریشن تربت نے ہنگامی بنیادوں پر نکاسیٔ آب اور صفائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

آفیسرز کی نگرانی میں عملے نے مختلف علاقوں میں مشینری کے ذریعے پانی کی نکاسی، کیچڑ کی صفائی اور سڑکوں کی بحالی کا کام انجام دیا۔

حکام کے مطابق صفائی اور نکاسیٔ آب کا عمل آج بھی جاری رہے گا۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت امدادی کارروائیاں ممکن ہو سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بارشوں سے تربت کی سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر حکام نے فوری مرمتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈیٹ فارم تربت کے عملے نے ایئرپورٹ روڈ سے ڈی بلوچ روڈ تک مختلف مقامات پر گڑھوں کو بھرنے اور سڑک کی بحالی کا کام مکمل کیا۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور بارشوں کے بعد انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ضلع کیچ کے علاقے بہمن میں برساتی نالے کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے مقامی آبادی شدید متاثر ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور میونسپل کارپوریشن کی مشترکہ ٹیم نے ڈنک، بہمن، شاہی تمپ سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔

جمعہ 27 مارچ کی بارش کے بعد میرانی ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ کر 242 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جس سے آبی ذخائر میں بہتری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

تربت کے علاقے واسطو بازار میں شدید بارشوں کے باعث تین فٹ سے زائد پانی جمع ہو گیا، جس سے گھروں اور دکانوں کو نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نکاسیٔ آب کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ضلع کیچ بھر میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کے باعث تربت ،بلیدہ روڈ متعدد مقامات پر متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سڑک کے مختلف حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور زمین دھنسنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ پلوں کے قریب صورتحال تشویشناک ہے۔

عوامی حلقوں نے سڑک کی مبینہ ناقص تعمیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گوادر کے علاقوں جیونی، پلیری، پیشکان، چھب ریکانی، سربندن اور شہر میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔

پیشکان میں ہوا کی شدت سے گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پینل اکھڑ گئے، جبکہ کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے گرنے سے پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

محکمہ موسمیات نے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کے مطابق طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی حالیہ بارشوں سے آبی بحران میں کمی اور زرعی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔

Share This Article