بلوچستان میں ریاستی جبر کی بدلتی پالیسیوں پر عالمی برادری فوری کردار اداکرے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے” زرمبش ٹی وی” کو ایک خصوصی انٹرویو میں بلوچستان میں پاکستانی فوج اور ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اجتماعی سزا کی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریاستی جبر کا سلسلہ دہائیوں پر مشتمل ہے اور وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب انتہائی خطرناک اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں نہ صرف سیاسی کارکن بلکہ عام شہری، خواتین اور جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ انٹرویو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں سیشن اور جنیوا میں BNM کی جاری سرگرمیوں کے تناظر میں ریکارڈ کیا گیا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق پاکستانی فوج نے بلوچستان میں جبر کی پالیسیوں کو مختلف مراحل میں نافذ کیا، جن میں ہر مرحلہ پچھلے سے زیادہ سنگین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں بلوچ نوجوان، طلبہ اور سیاسی کارکن برسوں سے لاپتہ ہیں۔ریاستی ادارے بغیر کسی قانونی کارروائی کے لوگوں کو اٹھا کر غائب کر دیتے ہیں۔کئی افراد کو شدید تشدد کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ خوف اور خاموشی مسلط کی جا سکے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشوں کا ملنا بلوچستان میں معمول بن چکا ہے، جو ماورائے عدالت قتل کی واضح نشاندہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ایک نئی پالیسی کے تحت جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مار کر انہیں دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ ریاستی جرائم کو قانونی جواز دیا جا سکے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ اب ریاست بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنا رہی ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک اور غیر انسانی رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھروں پر چھاپے، خواتین کی گرفتاری، خاندانوں کو ہراساں کرنا،یہ سب بلوچ معاشرے میں خوف پھیلانے کی منظم کوشش ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ریاست اب صرف کارکنوں کو نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی سزا دے رہی ہے۔ جس میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو ہراساں کرنا، انہیں بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا، سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کرنا، طلبہ کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے بے دخل کرناشامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب اجتماعی سزا کی پالیسی ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کسی بھی عالمی بحران سے کم نہیں، مگر عالمی ادارے اور حکومتیں خاموش ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔ عالمی میڈیا بلوچستان کی صورتحال کو بغیر خوف و دباؤ کے رپورٹ کرے۔ عالمی طاقتیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کو ترجیح دیں۔

انہوں نے بتایا کہ BNM کی ٹیم جنیوا میں مختلف انسانی حقوق تنظیموں، سفارتی نمائندوں اور میڈیا سے ملاقاتیں کر رہی ہے تاکہ بلوچستان کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

Share This Article