بی این ایم کی بین الاقوامی کانفرنس : بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر عالمی توجہ کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی 11ویں بین الاقوامی کانفرنس جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 61ویں اجلاس کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہے، جس میں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کانفرنس کی مختلف نشستوں میں مقررین نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، ریاستی جبر اور میڈیا بلیک آؤٹ جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کیا اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

مہرا بلوچ نے بطور ماڈریٹر کانفرنس کا آغاز کیا اور کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، مگر عالمی اداروں کی خاموشی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

شیرباز خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی برادری کی عدم توجہی مجرموں کو مزید طاقت دیتی ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔

حاتم بلوچ نے کانفرنس میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا جائزہ شامل تھا۔

اسی طرح ہدایت بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی اداروں کو فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سیشن کی نظامت سلیم بلوچ نے کی۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔

Share This Article