بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جنوبی کوریا میں بی این ایم کا احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے جنوبی کوریا چیپٹر نے 22 مارچ 2026 کو بوسان میں ایک پُرامن احتجاج کا انعقاد کیا، جس کا مقصد بلوچستان میں پاکستانی ریاستی فورسز کے ہاتھوں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ یہ احتجاج بی این ایم کی 10 مارچ سے 9 اپریل تک جاری عالمی آگاہی مہم کا حصہ ہے۔

مظاہرہ شام 5 سے 6 بجے تک ساسانگ اسٹیشن کے قریب ایپل آؤٹ لیٹ کے سامنے ہوا، جہاں شرکاء نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد اور بلوچ شہریوں کے خلاف اجتماعی سزا کے طور پر جاری ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھائی۔

احتجاج کے دوران انگریزی اور کوریائی زبانوں میں معلوماتی پمفلٹس تقسیم کیے گئے جن میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تازہ اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

پمفلٹس کے مطابق فروری 2026 میں 109 جبری گمشدگیاں اور 50 ماورائے عدالت قتل رپورٹ ہوئے، جبکہ جنوری 2026 میں 82 جبری گمشدگیاں اور 12 ماورائے عدالت قتل سامنے آئے۔ مارچ 2026 کے اوائل میں مشکے (آواران) اور پنجگور میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے ساتھ متعدد افراد کے اغوا کی نئی اطلاعات بھی شامل تھیں۔ مجموعی رجحانات کے مطابق 2025 میں 1200 سے زائد جبری گمشدگیاں اور 200 سے زیادہ ماورائے عدالت قتل رپورٹ ہوئے، جبکہ “مارو اور پھینکو” پالیسی اور فرنٹیئر کور (FC) کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

تقاریر کے دوران یاسین بلوچ، حفصہ بلوچ، آغا فیض اور بختاور بلوچ نے بلوچستان کو “بڑی جیل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جاتا ہے، خفیہ حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ماورائے عدالت قتل معمول بن چکے ہیں۔

مقررین نے بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔

مظاہرین نے نعرے لگائے جن میں شامل تھے: “بلوچستان میں نسل کشی بند کرو”، “جبری گمشدگیاں ختم کرو”، “پاکستان: بلوچوں کا قتل بند کرو”، “بلوچ انصاف چاہتے ہیں”، “بلوچ آزادی چاہتے ہیں”۔ بینرز، پمفلٹس اور تقاریر کے ذریعے مظاہرین نے عوامی مقام کو انصاف کے مطالبے کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔

احتجاج کے اختتام پر بی این ایم نے اعلان کیا کہ عالمی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جبری گمشدگیاں ختم نہیں ہوتیں، ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہوتا اور بلوچ عوام کو بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور عزت میسر نہیں آتی۔

Share This Article