بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی جانب سے جاری مہم کے تحت کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں تنظیم کی گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائی سی رہنما گزشتہ ایک سال سے جیلوں میں قید ہیں، اور یہ ان کی تیسری عید ہے جو وہ سلاخوں کے پیچھے گزار رہے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق ان رہنماؤں کا واحد “جرم” یہ تھا کہ انہوں نے جبری گمشدہ افراد کے لیے آواز اٹھائی اور ریاستی جبر کے خلاف بات کی۔
ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف بی وائی سی رہنماؤں کو رہا کیا جائے بلکہ لاپتہ افراد کی محفوظ بازیابی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی ان کی آواز ہیں، اور ان کی جدوجہد نے انہیں امید دی ہے کہ ایک بہتر مستقبل ممکن ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست نے صرف چند افراد کو نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی امیدوں کو قید کر رکھا ہے۔
بی وائی سی نے عوام سے اپیل کی کہ ناانصافی کے خلاف خاموشی اختیار نہ کریں، کیونکہ خاموشی ظلم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔