ایران کی سخت وارننگ: پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ کر دی جائے گی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدید تر ہو گئی جب ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی پر عمل کیا تو تہران آبنائے ہرمز کو ’’مکمل طور پر بند‘‘ کر دے گا۔

امریکی صدر نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بڑے پاور پلانٹس کو ہدف بنانے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ ’’سب سے بڑے پلانٹ کو پہلا ہدف بنایا جائے گا۔‘‘

ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’’ایران کے دشمنوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی‘‘ ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو آبنائے ہرمز ’’تباہ شدہ پاور پلانٹس کی دوبارہ تعمیر تک بند رہے گی۔‘‘

بی بی سی کی نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز کو کھول دیتا ہے تو اس جنگ میں وہ اپنی سب سے بڑی طاقت سے محروم ہو جائے گا۔

ادھر اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کے بعد 175 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق عراد میں بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد 84 جبکہ دیمونا میں 78 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ دونوں علاقے ایک اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب واقع ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا تو ایران خلیجی خطے میں اہم تیل اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو ’’ناقابلِ تلافی نقصان‘‘ پہنچائے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں خطے کی تیل اور توانائی کی تنصیبات ’’جائز اہداف‘‘ تصور کی جائیں گی، جس کے نتیجے میں ’’طویل مدت کے لیے‘‘ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Share This Article