بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے دالبندین اور سوراب میں عوامی آگاہی مہم چلائی، جس کا مقصد بی وائی سی رہنماؤں کی ایک سال سے جاری غیرقانونی حراست، عدالتی خاموشی، ریاستی جبر اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرانا تھا۔
دالبندین کی گلیوں میں کارکنوں نے عوام میں پمفلٹ تقسیم کیے، جن میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ بی وائی سی رہنماؤں کو ایک سال سے ریاستی تحویل میں رکھا گیا ہے اور انہیں منصفانہ ٹرائل کا بنیادی آئینی حق مسلسل تاخیروں اور من گھڑت جوازات کے ذریعے سلب کیا جا رہا ہے۔
مہم کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بلوچستان میں اپنے لوگوں کے حقوق کی بات کرنا جرم بنا دیا گیا ہے، مگر عدالتی خاموشی عوامی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی۔
سوراب میں بھی مین بازار، عزیز آباد، نگھار، ڈن، دُن اور سرخ سمیت مختلف علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔
مہم میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ بلوچستان میں ریاستی مظالم کی شدت عالمی توجہ کی متقاضی ہے۔ سیکڑوں بلوچ مرد و خواتین جبری گمشدگیوں کا شکار ہیں، جبکہ درجنوں افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنا ریاستی ’کل اینڈ ڈمپ‘ پالیسی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ وسیع فوجی آپریشنز نے لوگوں کو بے گھر کیا، روزگار تباہ کیے اور پورے خطے کو ایک مقبوضہ علاقے کی شکل دے دی ہے۔ دوسری جانب میڈیا پر سخت پابندیوں نے ان مظالم کو دنیا سے اوجھل رکھا ہوا ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی تشدد، عدالتی ناکامی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
ان کے مطابق جب تک انصاف فراہم نہیں ہوتا اور بلوچ عوام کی عزتِ نفس بحال نہیں ہوتی، مزاحمت کا سفر جاری رہے گا۔