عیدالفطر کے پہلے روز بلوچستان کے ضلع خاران میں معصوم بچے کے اغوا کی کوشش شہریوں کی بروقت مداخلت سے ناکام بنا دی گئی۔ مشتعل شہریوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق عید کی صبح خاران سٹی میں مولانا جمال ناصر مسجد کے قریب ایک شخص نے گاڑی میں سوار ہو کر ایک کمسن بچے کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود شہریوں نے مشکوک حرکت دیکھتے ہی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔
چند منٹ کے تعاقب کے بعد شہریوں نے بڈو کہور کے مقام پر گاڑی کو روک کر ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت عرفان احمد شاہوانی ولد حاجی ثناء اللہ شاہوانی کے نام سے ہوئی ہے، جو خاران شہر کا رہائشی ہے۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ بچے کو بحفاظت والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد بعض سماجی و سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملزم کا ممکنہ طور پر تعلق ایک مبینہ ریاستی حمایت یافتہ مقامی ملیشیا سے ہو سکتا ہے، جسے عام طور پر "ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ان حلقوں کے مطابق ملزم کی جانب سے دیدہ دلیری کے ساتھ اغوا کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ کسی پشت پناہی کے بغیر ایسا قدم نہ اٹھاتا۔
مزید برآں، کچھ سیاسی کارکنوں نے اس واقعے کو بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو دبانے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے رشتہ داروں کو نشانہ بنا کر انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خاران کے سماجی حلقوں نے شہریوں کی جرات اور بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمت کی بدولت عید کے خوشیوں بھرے موقع پر ایک بڑا سانحہ رونما ہونے سے بچ گیا۔