بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما گل زادی بلوچ کی بہن شمیم بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی اور عسکری بیانیوں سے ہٹ کر اگر ایک عام بلوچ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ خوف، غیر یقینی اور موت کے سائے میں لپٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل زادی ہمارے لیے صرف ایک بہن نہیں بلکہ اپنی قوم کی ایک مضبوط آواز بھی ہے۔ وہ ہمیشہ ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگی کے شکار خاندانوں کے بچوں کی تعلیم، شعور اور بہتر مستقبل کے لیے فکر مند رہتی تھی۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ جس طرح اس کے بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد اس کی اپنی تعلیم متاثر ہوئی اور ذہنی سکون بکھر گیا، وہ نہیں چاہتی کہ اس کی قوم کے دیگر بچوں کا مستقبل بھی اسی طرح متاثر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ مگر آج وہی آواز، وہی فکر، خود قید کر دی گئی ہے۔ اس پر بے شمار جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جن میں دہشتگردی اور ملک دشمنی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
شمیم بلوچ کے مطابق بلوچستان میں اس وقت قانون کی ایسی صورت حال ہے جو جنگل کے قانون سے بھی بدتر محسوس ہوتی ہے۔ نہ کوئی واضح جرم، نہ عدالت، نہ جج اور نہ ہی وکیل، بس بلوچ نوجوانوں، بچوں اور حتیٰ کہ خواتین کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے، اور پھر تڑپتے ہوئے خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بے جان لاشیں واپس کر دی جاتی ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ اب کوئی سوال نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے خاندان، لاش ملنے کو بھی غنیمت سمجھ کر، خود کو دوسروں کے مقابلے میں خوش نصیب تصور کرتے ہیں اور اس جان لیوا انتظار سے نجات کو ایک طرح کا سکون سمجھنے لگتے ہیں۔
شمیم بلوچ نے عدالتی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حق کی آواز بلند کرنے والوں کو قید و بند میں ڈال دیا جاتا ہے، نمائشی عدالتیں قائم کی جاتی ہیں، اور جج خود یہ کہہ کر دستبردار ہو جاتے ہیں کہ "آپ لوگوں کا مسئلہ سیاسی ہے، اسے اوپر جا کر حل کریں۔” ایسے میں ایک بہن اس کمزور عدلیہ اور فرسودہ نظامِ قانون سے انصاف کی امید کیسے رکھ سکتی ہے؟
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
"کیا انصاف واقعی موجود ہے، یا صرف خاموشی اور خوف مسلط کیا جا رہا ہے؟”