مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت شدید تر ہو گئی ہے جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے اور مبصرین کے مطابق یہ سلسلہ کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا (Dimona) پر میزائل حملہ، ایران کے نطنز (Natanz) جوہری مرکز پر ہونے والے حملے کا ردعمل تھا۔ دیمونا صحرائے نیگیو میں واقع ہے جہاں اسرائیل کی ایک اہم اور غیر اعلانیہ جوہری تنصیب موجود سمجھی جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل دیمونا میں ایک عمارت پر براہِ راست گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے مطابق نطنز افزودگی کمپلیکس کو صبح کے وقت نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں تابکار مواد کے اخراج کی تردید کی گئی تھی، جس کی بعد ازاں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بھی تصدیق کر دی۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایرانی حکام نے حملے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد ادارے نے ایرانی تشخیص کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی قسم کی تابکاری خارج نہیں ہوئی۔‘‘ ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دیمونا حملے سے قبل انہوں نے تہران میں ایک مبینہ جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق یہ تنصیب Malek Ashtar University of Technology کے اندر قائم تھی، جو ایرانی وزارتِ دفاع کے ماتحت ایک حساس ادارہ ہے اور بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں بھی رہا ہے۔
ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم نے نطنز پر حملے کو ’’امریکہ اور صہیونی ریاست‘‘ کی کارروائی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق افزودگی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نہ تابکار مواد خارج ہوا اور نہ ہی قریبی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا۔
یہ بھی واضح رہے کہ جاری کشیدگی کے دوران نطنز تنصیب پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی سیٹلائٹ تصاویر میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔
جوہری تنصیبات پر براہِ راست حملوں کے اس تبادلے نے عالمی برادری کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطہ ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی توانائی، سیکیورٹی اور سفارتی ماحول پر گہرے ہوں گے۔