برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس سے قبل ڈاؤننگ سٹریٹ نے امریکی فورسز کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جن کا مقصد ایران کی جانب سے ایسے میزائل حملوں کو روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
تاہم آج ہونے والے ایک اجلاس میں وزرا نے اتفاق کیا ہے کہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی یہ اجازت اب بڑھا کر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی امریکی کارروائیوں تک بھی دی جا سکتی ہے۔
برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ ’تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے موقف کی بنیادی اصولی پالیسی بدستور برقرار ہے۔‘
ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اڈے اب ’امریکی دفاعی کارروائیوں‘ کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جن کا ہدف ’وہ صلاحیتیں ہوں گی جنھیں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’وزرا نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور جنگ کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘
دریں اثنا امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی میرینز اور ملاح تعینات کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں موجود یو ایس ایس باکسر اور 11ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے تقریباً 2,500 میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا۔
ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مغربی ساحل سے کی جانے والی یہ تعیناتی اپنے مقررہ شیڈول سے تین ہفتے پہلے ہو رہی ہے۔
دوسری برطانیہ کی اس اقدام پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے وزیرِاعظم کیئر سٹامر نے ’برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنے ’حقِ دفاع‘ کا استعمال کرے گا۔
ایکس پر پیغام میں عراقچی نے لکھا کہ ’برطانوی عوام کی بھاری اکثریت اسرائیل۔امریکہ کی ایران کے خلاف اس مرضی کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سٹامر اپنے عوام کی رائے کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ایران کے خلاف جارحیت کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے کر برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘