ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دو ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے زیرِ استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر (60 کروڑ پاؤنڈ) کا نقصان ہوا ہے۔
سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ اور بی بی سی کے تجزیے کے مطابق اس نقصان کا بڑا حصہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد پہلے ہفتے میں ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں ہوا تھا۔
امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تو واضح نہیں تاہم امریکی فوجی ڈھانچے کو ہونے والے 80 کروڑ ڈالر کے تخمینے — جو پہلے سامنے آنے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں — جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ امریکہ کو پڑنے والی بھاری قیمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سی ایس آئی ایس کے سینیئر مشیر اور رپورٹ کے شریک مصنف مارک کانسین کہتے ہیں، ’خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان کم رپورٹ ہوا ہے۔ نقصان کافی زیادہ دکھائی دیتا ہے، لیکن صحیح اعداد و شمار مزید معلومات آنے پر ہی سامنے آئیں گے۔‘
بی بی سی نے امریکی وزارتِ دفاع کو اس بارے میں تبصرے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ سے رجوع کرنے کا کہا جو کہ اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں اردن، متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں موجود امریکی فضائی دفاعی نظام اور سیٹیلائیٹ کمیونی کیشن سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔
سب سے بڑا نقصان اردن میں ایک امریکی اڈے پر تھاد (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے ریڈار کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا ہے۔
سی ایس آئی ایس کے مطابق اے این/ٹی پی وائی-2 (AN/TPY-2) ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ نظام بیلسٹک میزائلوں کو دور سے مار گرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 31 کروڑ ڈالر کا اضافی نقصان بھی پہنچا ہے۔
بی بی سی ویری فائی کے سیٹیلائیٹ تجزیے کے مطابق ایران نے کم از کم تین فضائی اڈوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا۔ یہ حملے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایران مخصوص امریکی اثاثوں کو بار بار ٹارگٹ کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ایران کو انٹیلی جنس بھی فراہم کی ہے۔
سیٹیلائیٹ تصاویر سے کویت کے علی السالم اڈے، قطر کے العدید اڈے اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر مختلف مواقع پر ہونے والے تازہ نقصان کی نشاندہی ہوتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز سے لے کر اب تک اس جنگ میں امریکہ کے 13 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 1400 شہریوں سمیت تقریباً 3,200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی، اس کی روایتی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا، اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی معاونت کا خاتمہ شامل ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم ایران میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔‘
تاہم اس جنگ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس غیر یقینی صورتحال کے باعث کہ جنگ کب تک چلے گی اور آیا صدر ٹرمپ زمینی فوج بھیجیں گے یا نہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر کے حصول پر امریکی کمپنیوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے نقصانات کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس کے باوجود ایران کی جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے کچھ واضح رجحانات سامنے آئے ہیں۔
جنگ کے ابتدا میں بحرین میں امریکی بحری اڈے پر ایرانی حملے سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ایران کا نشانہ ریڈار اور سیٹیلائیٹ سسٹمز ہیں۔ یہ تنصیبات جدید فوجی کارروائیوں کے لیے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر میں حساس آلات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے دو ریڈار ڈومز کی تباہی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ غالب امکان ہے کہ اندر موجود سسٹمز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہو، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔
کویت کے کیمپ عریفجان اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس میں بھی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہزادہ سلطان ایئر بیس کی تصاویر میں تھاد سسٹم کے ایک حصے سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر نصب تھاد سسٹمز کو زیادہ نقصان پہنچا۔ نقصان کی درست لاگت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان سسٹمز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امریکہ کو جنوبی کوریا سے تھاد کے پرزے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پڑے۔
ایرانی حملوں سے ہونے والا یہ نقصان امریکہ کے مجموعی جنگی اخراجات کا صرف ایک حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو 12ویں دن تک 16.5 ارب ڈالر ہو گئے۔
پینٹاگون نے جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق اس رقم میں ’مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’برے لوگوں کو مارنے کے لیے پیسے کی ضرورت تو پڑتی ہے۔‘