بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے حکومتی بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنے اور اپنی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک الزامات کی سخت مذمت کی ہے۔ بی وائی سی کا مؤقف ہے کہ وہ ہمیشہ ایک پُرامن سیاسی تحریک رہی ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرتی آئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ریاستی ادارے سنگین انسانی حقوق کے مسائل کا جواب دینے کے بجائے پروپیگنڈے اور من گھڑت پریس کانفرنسوں کے ذریعے انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور آئی جی پولیس نے فرزانہ زہری کو پیش کیا، جو دسمبر 2025 میں خضدار سے جبری طور پر لاپتہ کی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین ماہ تک انہیں کسی قانونی فورم پر پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی جیل یا قانونی حراستی مرکز میں رکھا گیا۔ اس طویل غیرقانونی حراست کے بعد ان سے دباؤ کے تحت بی وائی سی کے خلاف بیان دلوایا گیا، جس کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔
بی وائی سی نے سوال اٹھایا ہے کہ فرزانہ زہری اس تمام عرصے کہاں تھیں؟ انہیں عدالت کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ اور انہیں قانون کے مطابق حراست میں رکھنے کے بجائے ان سے زبردستی بیان کیوں لیا گیا؟ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جبری گمشدگیوں کو چھپانے کی ایک واضح کوشش بھی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا بی وائی سی کی قیادت کی غیرقانونی حراست کو جواز دینے اور ایک پُرامن سیاسی تحریک کو بدنام کرنے کی منظم کوشش ہے۔ اب تک ڈاکٹر صبیحہ بلوچ یابی وائی سی کے خلاف پیش کیے گئے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔
بی وائی سی نے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یا تو اپنے دعوؤں کے ثبوت پیش کریں یا پھر عوامی سطح پر معافی مانگیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ وہ پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور ریاستی دباؤ یا دھمکیوں کے باوجود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی۔