اسرائیل دوبارہ ایران کے پارس گیس فیلڈ پر حملہ نہیں کرے گا، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس اسرائیلی حملے کے بارے میں امریکہ کو ’کچھ معلوم نہیں تھا‘، اور خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’غصے میں‘ اسرائیل نے ایک ایسا حملہ کیا جس نے ’مجموعی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے‘ کو نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایران ’اس بات سے آگاہ نہیں تھا‘ اور قطر کے راس لفان میں ایل این جی گیس فیسلٹی پر اس کے جوابی حملے ’بلا جواز اور غیر منصفانہ‘ تھے۔‘

انھوں نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو انتہائی اہم اور قیمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دوبارہ اس پر حملہ نہیں کرے گا۔

تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس گیس فیلڈ کو ’بڑے پیمانے پر نقصان پہنچائے گا اور اسے تباہ کر دے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ کا ایران پر یہ حملہ ایسا ہوگا کہ ایسی طاقت کا استعمال ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’تشدد اور تباہی کی اس سطح‘ کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران پر طویل مدتی اثرات ہوں گے، لیکن اگر قطر کی ایل این جی تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو میں خطرناک حد تک جانے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘

اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آج اسرائیل کی جانب سے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے نہیں چاہتے۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ایران کو سبق سکھانے کے ارادے سے اس حملے کی حمایت کی تھی۔ تاہم اب وہ اس طرح کے مزید حملوں کے خلاف ہیں۔

امریکی حکام نے اخبار کو بتایا ہے کہ اگر ایران اہم تیل اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے یا انھیں بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو ٹرمپ ایرانی توانائی کے اہداف پر مزید حملوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

Share This Article